• بلاگ
  • صفحہ اول

مسائل کو حل کیسے کریں ؟اور مشکلات سے چُھٹکارا کیسے پائیں

صفحہ اول بلاگ مسائل کو حل کیسے کریں ؟اور مشکلات سے چُھٹکارا کیسے پائیں

مسائل کو حل کیسے کریں ؟اور مشکلات سے چُھٹکارا کیسے پائیں

- Advertisement -

سندر پچائی کھانا کھا رہے تھے‘ اچانک ایک کاکروچ آیا‘ اڑا اوراڑ کر ایک خوب صورت خاتون کے کوٹ پر بیٹھ گیا۔

خاتون نے اچھل کر چیخنا شروع کر دیا‘ ریستوران میں پینک ہو گیا‘ کاکروچ بھی پینک میں آگیا‘ وہ اس خاتون کے کوٹ سے اڑا اور دوسری خاتون کے کندھے پر بیٹھ گیا‘ دوسری خاتون بھی اٹھ کر کودنے اور چیخنے لگی‘ پورے ریستوران میں ہنگامہ ہو گیا‘ لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا‘ ایک ویٹر یہ منظر دیکھ رہا تھا‘ وہ دوڑ کر خواتین کی مدد کے لیے آیا‘ وہ قریب پہنچا تو کاکروچ نے ایک اور فلائیٹ لی اور وہ سیدھا ویٹر کی جیب پر آ کر بیٹھ گیا‘ سندر پچائی یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے۔

- Advertisement -

انہوں نے کھانا چھوڑا اور اپنی ساری توجہ ویٹر‘ کاکروچ اور چیختی ہوئی خواتین پر لگا دی‘ سندر پچائی نے دیکھا کاکروچ جوں ہی ویٹر کی جیب پر بیٹھا‘ ویٹر نے سب سے پہلے ٹیڑھی آنکھ سے کاکروچ کے ”بی ہیویئر“ کا جائزہ لیا‘ ساکت کھڑے کھڑے جیب سے ٹشو پیپر نکالا‘ ٹشو کے ساتھ کاکروچ پکڑا اور اسے لے کر ریستوران سے باہر نکل گیا‘ سندر پچائی نے اس واقعے اور اس ویٹر سے اپنی زندگی کا شان دار ترین سبق سیکھا‘ ان کا کہنا تھا‘ میں نے دیکھا کاکروچ خواتین اور ویٹر دونوں کے لیے ایک تھا بس دونوں کا کاکروچ سے ڈیل کرنے کا طریقہ مختلف تھا۔

خواتین نے اچھلنا‘ کودنا اور چیخنا شروع کر دیا تھا جب کہ ویٹر نے چیخنے چلانے کے بجائے کاکروچ پکڑا اور باہر پھینک دیا‘ میں نے دونوں کے رویوں کا جائزہ لیا تو پتا چلا خواتین نے کاکروچ دیکھ کر ری ایکٹ کرنا شروع کر دیا تھا جب کہ ویٹر نے کاکروچ کو ریسپانڈ کیا تھا۔سندر پچائی نے کہا دنیا کے مسائل بھی کاکروچ کی طرح ہوتے ہیں‘ یہ سب کے لیے ایک جیسے ہوتے ہیں بس ہم میں سے کچھ لوگ ان پر ری ایکٹ کر کے ماحول میں تشویش پیدا کر دیتے ہیں جب کہ تھوڑے سے لوگ ریسپانڈ کر کے مسئلہ حل کر دیتے ہیں لہٰذا ہم اگر زندگی میں کام یاب ہونا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں یہ ماننا ہوگا دنیا میں باس ایشو نہیں ہوتے۔

ام‘ ٹریفک‘ منہگائی‘ پلوشن‘ حکومتیں‘ ریاستوں کی پالیسیاں‘ ساس بہوئیں‘ داماد‘ بیویاں‘ بچے‘ ہمسائے اور نوکریاں بھی مسئلے نہیں ہیں‘ مسئلہ صرف یہ ہے ہم انہیں ہینڈل کیسے کرتے ہیں‘ ان پر ہمارا ریسپانس کیا ہوتا ہے‘ میں آپ کو یہاں ری ایکشن اور ریسپانس میں فرق بھی بتاتا چلوں‘ ری ایکشن اچانک اور منصوبہ بندی کے بغیر ہوتا ہے جبکہ ریسپانس سوچا‘ سمجھا اورحکمت کے ساتھ ہوتا ہے‘ کاکروچ کو دیکھ کر خواتین نے ری ایکٹ کیا تھا جب کہ ویٹر نے ریسپانڈ کیا تھاچناں چہ آپ زندگی میں ری ایکٹ نہ کیا کریں‘ ریسپانس کیا کریں‘ آپ کام یاب ہو جائیں گے۔

مسئلوں اور مشکلوں سے نہ گھبرائیں‘ یہ زندگی ہیں‘ اس پورے کرہ ارض پر صرف ایک جگہ ہے جہاں کوئی مشکل ہے اور نہ مسئلہ اور وہ جگہ ہے قبرستان‘ آپ قبرستان میں جا کر دیکھیں‘ بجلی‘ گیس‘ پٹرول اور پانی کتنا ہی منہگا کیوں نہ ہو جائے قبروں کو کوئی فرق نہیں پڑتا‘ گاڑیاں منہگی ہو جائیں‘ ٹریفک ڈبل یا ٹرپل ہو جائے‘ ٹیکس بڑھ جائیں‘ شہر کے سیوریج پائپ بلاک ہو جائیں یادھرنے شروع ہو جائیں قبروں اور مُردوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

دنیا میں صرف یہ وہ جگہ ہے جہاں آپ کا کسی رشتے دار‘ کسی کولیگ اور کسی ہمسائے سے کوئی جھگڑا نہیں ہوتا‘ جہاں کوئی کسی کے ساتھ حسد نہیں کرتا‘ آپ زندہ ہیں تو لوگ آپ سے جیلس بھی ہوں گے‘ یہ آپ کو چیلنج بھی کریں گے‘ منہگائی بھی ہو گی‘ چوری بھی ہو گی اور آپ چوکوں میں لٹیں گے بھی‘ حکومتیں بھی بری آئیں گی‘ آپ کے گھر پر نوٹس بھی سرو کئے جائیں گے اور بجلی‘ گیس اور پٹرول بھی منہگاہو گا اور آپ کا نقصان بھی ہو گا‘ زندہ ہیں تو مسئلے بھی ہیں‘ زندہ ہیں تو مشکلیں بھی ہیں۔

- Advertisement -

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں
اپنا نام یہاں درج کریں

1,000فینزپسند
6فالورزفالور
1,000فالورزفالور
1,000سبسکرائبرزسبسکرائب کریں