• بلاگ
  • صفحہ اول

بینظیر بُھٹو شہید اور پیپلز پارٹی

صفحہ اول بلاگ بینظیر بُھٹو شہید اور پیپلز پارٹی

بینظیر بُھٹو شہید اور پیپلز پارٹی

- Advertisement -

بینظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی

محترمہ بینظیر بھٹو شہید نہ صرف پاکستان بلکہ اقوام عالم میں ایک خاص اور منفرد مقام رکھتی تھی ِ وہ نہ صرف سیاسی رہنما تھیں بلکہ ایک عظیم معلمہ بھی تھی ِ وہ تاریخ کی طالب علم ہونے کے ساتھ ایک اعلی لکھاری بھی تھیں ِ وہ صنف آہن تھی ِعظیم باپ کی پھانسی ہو یا بھائیوں کی لاشوں کو اٹھانا ہو ‘ ضیا کی آمریت میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا ہوں یادور اقتدار میں سازشوں کا مقابلہ کرنا ہو ‘ جلاوطنی کی تکالیف ہوں یا ان کے خاوند کی آٹھ سالہ جیل کا تکلیف دہ سفر ہو ‘ جان سے مارنے کی دھمکیاں ہوں یا دھماکوں کا سامنا کرنا ہو ‘ بینظیر نے نام سے ہی نہیں بکہ عمل سے خود کو بینظیر ثابت کیااور ہمیشہ کے لیے امرہو گئیں ِ  ان کا قتل درحقیقت خوشحال، ترقی پسند اور جمہوری پاکستان کے خواب کےخلاف سازش تھی ِ

- Advertisement -

 شہید محترمہ بینظیر بھٹو تاریخ ساز مدبر و بہادر رہنما تھیں ِ وہ وفاق کی علامت تھیں ِوہ  چاروں صوبوں کی زنجیر تھیں ِ شہید محترمہ بینظیر بھٹو ان نظریات کے لیئے بڑی بہادری سے لڑیں جن کی خاطر ان کے والد نے پھانسی کا پھندہ گلے لگایا تھا ِِ وہ ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے معاملے پر کبھی ایک پل کے لیئے بھی مصلحت کا شکار نہیں ہوئیں ِ

انہوں نے ایٹمی پروگرام جاری رکھا ِ ملک کو میزائیل ٹیکنالوجی کا تحفہ دیا ِ پاکستان میں جمہوری برداشت کا کلچر محترمہ بینظیر بھٹو نے پروان چڑھایا ِسیاسی انتقام کا نشانہ بننے والی بینظیر نے انتقامی سیاست کا خاتمہ کیا ِ انہوں نے وزیراعظم بھٹو کی پھانسی میں شریک لوگوں سے انتقام نہیں لیا ِ جیسے بھٹو صاحب نے تاریخ میں زندہ رہنے کو ترجیح دی ِ اسی طرح بینظیر بھٹو  صاحبہ نے انتقام نہ لے کر بھٹو کے قاتلوں کوتاریخ میں ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ِ

میاں نوزشریف کے دور میں ان پر اور آصف علی زرداری پر نام نہاد مقدمات بنائےگئے ِ مگر میاں نواز شریف جب مشکل میں تھے تو نہ صرف ماضی کی رنجشوں کو درگزر کیا بلکہ ان کے ساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کیے ِ یہ پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل کے لیے سیاسی انتقامی کاروائیوں کے خاتمے کی طرف انتہائی اہم قدم تھا ِِ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے وزیراعظم بننے کے فوراً بعد تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم دیا ِ

بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد پی پی مخالف عناصر نے پیپلز پارٹی کے خاتمے کی پیشن گوئیاں کی تھیں ِ مگر محترمہ بینظیر بھٹو نے عوامی سیاست کر کے عوام میں پیپلزپارٹی کو زندہ رکھا ِ ضیا کی آمریت میں محترمہ اور پی پی کی مقبویت کے خوف سے پہلی بار غیر جماعتی انتخابات ہوئے مگر پیپلزپارٹی کو کوئی ختم نہیں کرسکا

ِ زمانہ انتقامی سیاست میں میاں نواز شریف اور ان کے اتحادی پیپلزپارٹی کو سمندربرد کرنے کی باتیں کیا کرتے تھے ِ اس مقصد کے لیے کئی اتحاد بھی بنے مگر پی پی کو سمندر برد کرنے والے بینظیر کی عوامی اور جمہوری سیاست سے شکست کھاگئے اور جب ان پر مشکل وقت آیا تو بینظیر بھٹو سے اتحاد کر کے جمہوریت کے لیے جدوجہد میں ان کے ساتھ شریک ہو گئے ِ یہ ہی تاریخ کا انصاف ہے ِ

27 دسمبر2007 کی شام غم بینظیر کے لہو سے عبارت ہوگئی ِ سیاسی مخالفین کی رائےتھی کہ اب پیپلز پارٹی ختم ہو جائے گی ِ مگر بینظیر بھٹو نے اپنے لہو سے جمہوریت کی نہ صرف شمع روشن کی بلکہ پیپلز پارٹی کو ہمیشہ کے لیے خوف کے بطن سےباہر نکال دیا ِ ان کی شہادت کی بدولت  پی پی کو پانچ سالہ حکومت ملی ِ آج پی پی کی قیادت بلاول بھٹوزداری کے پاس ہے  وہ بھٹو صاحب اور بینظیر کا پرچم تھامے ہوئے ہیں ِ مگر ابھی عشق کے امتحان باقی ہیں ِ 

آج پی پی کی حکومت صرف سندھ میں ہے ِ باقی تمام صو بوں میں بہت محنت کی ضرورت ہے ِ بلاول کو اپنی ماں کے نقش قدم پر چل کر عوام کے درمیان سیاست کرنا ہو گی ِ

لیاقت باغ کا جلسہ پی پی کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ہے ِ اس میں کوئی شک نہیں کہ پیپلز پارٹی آج بھی مقبول ترین جماعت ہے ِ اس کے ووٹر نے مایوس ہو کر 2013 اور 2018 کے نتخابات میں کسی اور جماعت کوووٹ دےدیایا گھر بیٹھنے کو ترجیح دی ِ بلاول بھٹو کو جو وراثت ملی ہے وہ خوف کی زنجیروں سے بالاتر ہے ِ

جیالوں کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے ِ یہ جیالے آج بھی دمادم مست قلندر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر اس کے لیے عوام کے درمیان جا کر عوامی سیاست کرنا ہو گی ِپی پی کی سیاست کو وڈیرہ شاہی کے ایوانوں سے نکالنا ہو گا ِ لیاقت باغ کا کامیاب جلسہ عوامی سیاسی راج کا ثبوت ہے ِ یقینا بلاول بھٹو اس سیاست کا دائرہ کار بڑھائیں گے ِیہ ہی ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کی سیاست تھی ِ یہ ہی فلسفہ بلاول کاسیاسی ورثہ ہے ِ

تحریر : محمد عمران حیدر

- Advertisement -
adminhttp://news2daypk.com
I'm a manager at News Today Pk and my primary responsibilities are making major corporate decisions and managing the overall operations and resources of the company. I’ve done Master in Mass Communication and now I’m performing my job as a News Anchor. I’m also hire on assistant director post at Motion Circle.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں
اپنا نام یہاں درج کریں

1,000فینزپسند
5فالورزفالور
1,000فالورزفالور
1,000سبسکرائبرزسبسکرائب کریں