• پاکستان
  • صفحہ اول

پاکستان میں کرونا کے مریضوں کا علاج کیسے ہو رہا ہے، صحتیاب ہونے والی روما کی کہانی

صفحہ اول پاکستان پاکستان میں کرونا کے مریضوں کا علاج کیسے ہو رہا ہے، صحتیاب ہونے والی روما کی کہانی

پاکستان میں کرونا کے مریضوں کا علاج کیسے ہو رہا ہے، صحتیاب ہونے والی روما کی کہانی

- Advertisement -

کرواناوائرس سےصحتیاب رُوماسلیم کی کہانی

راولپنڈی کی رہائشی رُوماسلیم کے خاندان کے چارافراد کوروناوائرس کا شکار ہوئے اور محض چار دن میں ان میں سے ایک کی ہلاکت ہو گئی۔ وہ خود بھی گزشتہ ہفتے کورونا سے صحتیاب ہو کر گھر واپس پہنچی ہیں۔روما سمجھتی ہیں کہ یہ ان کی زندگی کا مشکل ترین وقت تھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کے تمام اہلخانہ کو مختلف قرنطینہ مراکز میں بھیج دیا گیا اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے ان کا ہنستا بستا گھر ویران ہو گیا۔

جب 24 سالہ روما سلیم سے بات کی گئی اور ان سے پوچھا کہ وائرس کی تصدیق سے لے کر ہسپتال سے واپس آنے تک انھوں نے کیا دیکھا؟ وہ بتاتی ہیں: ’میری خالہ اور خالو انگلینڈ سے راولپنڈی آئے تھے اور میں نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر انھیں شاپنگ کرانے کی ذمہ داری لی تھی۔ یوں ہمارا زیادہ وقت اکٹھے گزرا۔ تین یا چار دن بعد خالہ کی طبیعت خراب ہوئی اور ہمیں بھی تھکاوٹ محسوس ہونے لگی۔ لیکن ہم نے یہ سوچ کر اسے نظر انداز کردیا کہ یہ معمول کی تھکاوٹ ہے۔‘

- Advertisement -

‘اس دوران خالہ کی طبیعت زیادہ خراب ہونے لگی، انھیں سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی جس کے بعد انھیں ملٹری ہاسپٹل میں داخل کرایا گیا۔ اس دوران میرا بھائی اور خالو ان کا خیال رکھ رہے تھے۔ ایک دن بعد ڈاکٹرز نے بتایا کہ ان میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔‘

’جس کے بعد خالو اور بھائی کا ٹیسٹ ہوا کیونکہ وہ ان کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ ان دونوں کے ٹیسٹ بھی مثبت آ گئے۔ دو دن ہی گزرے تھے کہ ہسپتال سے فون آیا کہ خالہ دم توڑ گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی ڈاکٹرز نے کہا کہ میرے بھائی اور خالو کو بھی ہسپتال منتقل کرنا ہو گا۔‘

’یہ مشکل وقت تھا۔ مجھے اپنے والد کی فکر تھی جو پہلے ہی ذیابطیس کے مریض ہیں۔ دوسرے دن میرے ٹیسٹ کا رزلٹ آیا جو کہ مثبت تھا، ایمبولینس آئی اور مجھے کہا گیا کہ آپ بھی ہسپتال چلیں گی۔ ادھر میرے والد کو ایک اور قرنطینہ سنٹر میں منتقل کر دیا گیا۔روما کہتی ہیں کہ محض چار دن میں ان کے گھر پر تالے پڑ گئے۔رُوما نے اس وقت کے بارے میں بتایا جب وہ ہسپتال میں داخل تھیں۔

’جب کورونا وائرس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید اب زندگی ختم ہو جائے گی۔ مجھے بھی یہی محسوس ہو رہا تھا۔

’مجھے موت کا ڈر نہیں تھا مگر ایسی موت سے ڈر لگ رہا تھا جس میں میرے اپنے میرے قریب بھی نہیں آ سکتے۔ میرا بھائی ہسپتال میں تھا، اب میں جارہی تھی جس نے میرے والد کو بالکل تنہا کر دیا۔ جب میں ایمبولینس میں بیٹھی تو ابو نے کہا ’اب تم دونوں بچوں کو میں خدا کے حوالے کر رہا ہوں۔

‘آپ جب ہسپتال پہنچتے ہیں تو ہر قسم کی صورتحال کے لیے تیار رہیں۔ یہ حوصلہ افزا بھی ہو سکتی ہے اور نہایت پریشان کن اور تکلیف دہ بھی لیکن یہ یاد رکھیں کہ کچھ بھی ہو جائے آپ نے ہمت نہیں ہارنی۔روما سلیم راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی میں زیرِ علاج رہیں جہاں ان کے ساتھ کئی اور مریض بھی تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ اُن میں ہر عمر کے لوگ شامل تھے۔

میں پہلے چار دن بہت پریشان تھی۔ مجھے سخت بے چینی ہو رہی تھی اور میرا سانس بند ہو رہا تھا۔ میرے جسم کا مدافعتی نظام پہلے ہی کمزور تھا۔ میں اس قدر پریشان تھی کہ میں کچھ بھی کھا پی نہیں سکتی تھی جس کی وجہ سے کمزوری بڑھ رہی تھی۔ ڈاکٹروں نے مجھے میرے بھائی کے ساتھ شفٹ کر دیا۔ میرے والد سوہاوہ میں قائم قرنطینہ مرکز میں بھیج دیے گئے تھے۔

’ڈاکٹرز مجھے بتاتے رہے کہ اگر میں نے ڈپریشن پر قابو نہ پایا تو میری سانس کی بندش بڑھ سکتی ہے اور پھر مجھے آکسیجن لگا دی جائے گی۔

‘لیکن چار دن بعد میں نے فیصلہ کیا کہ میں ہمت نہیں ہاروں گی۔ میں اپنی فیملی کے لیے زندہ رہوں گی۔ اس کے بعد میں نے زیادہ تر وقت فون پر گزارا۔ رشتہ داروں اور دوستوں سے بات کی، والد کا ٹیسٹ منفی آیا تو حوصلہ مزید بڑھا۔ بھائی تیزی سے ٹھیک ہو رہا تھا۔ مجھے بہت لوگوں نے جلد صحتیابی کے پیغام بھیجے جن سے حوصلہ بڑھا کہ اتنی دعائیں میرے ساتھ ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ ہسپتال میں کورونا کا شکار مریضوں کو مختلف ادویات دی جاتی ہیں۔

‘کورونا کے مریض کو تیار رہنا چاہیے کہ اس کو مختلف ادویات دی جائیں گی اور ان کی مقدار اور اقسام جسم میں رونما ہونے والی علامات پر منحصر ہے۔ مثال کے طور پر مجھ سمیت تقریباً سبھی مریضوں کو آغاز میں کلوروکوین نامی دوا دی گئی جو کہ ملیریا یا ڈینگی بخار میں دی جاتی ہے۔ اس طرح میرا بخار شروع سے ہی قابو میں رہا۔

’اس کے بعد ایک موقعے پر میرا معدہ خراب ہوا تو اس کی ادویات کا آغاز کر دیا گیا۔ اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ہے۔ ہر روز دن میں دو سے تین مرتبہ مانیٹر کیا جاتا ہے، بخار چیک کیا جاتا ہے۔ بلڈ پریشر چیک کیا جاتا ہے، اگر نبض کم ہو تو آکسیجن لگائی جاتی ہے۔ تو یہ وہ صورتحال ہے جس کے لیے ہر کورونا مریض کو ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے۔‘

روما کہتی ہیں کہ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے سے پہلے دو بار ٹیسٹ کیے جاتے ہیں جن کا منفی آنا ضروری ہوتا ہے۔

‘ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اب آپ گھر والوں کے ساتھ مل بیٹھیں اور احتیاط نہ کریں۔ میں ہسپتال سے واپس آنے کے بعد 14 دن کے لیے گھر میں ہی آئیسولیشن میں ہوں۔ مجھے ڈاکٹرز نے کہا ہے کہ یہ احتیاط ضروری ہے۔ اس لیے ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد بھی خود کو کم از کم دو ہفتوں کے لیے قرنطینہ کرنا ہو گا۔

‘کورونا کے وارڈز میں ہر قسم کے لوگ ملتے ہیں، وہاں پڑھے لکھے، ان پڑھ، غریب یا امیر کی کوئی قید نہیں۔ ہر بیک گراؤنڈ سے مریض ہیں اور ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ ہم ایک بیماری اور ایک ہی تکلیف سے گزر رہے ہوتے ہیں، اپنے پیاروں سے دور ہوتے ہیں اور بے یقینی کی صورتحال ہوتی ہے۔ ایسے میں ہمیں ہی ایک دوسرے کا سہارا بننا پڑتا ہے۔‘

- Advertisement -
adminhttp://news2daypk.com
I'm a manager at News Today Pk and my primary responsibilities are making major corporate decisions and managing the overall operations and resources of the company. I’ve done Master in Mass Communication and now I’m performing my job as a News Anchor. I’m also hire on assistant director post at Motion Circle.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں
اپنا نام یہاں درج کریں

1,000فینزپسند
6فالورزفالور
1,000فالورزفالور
1,000سبسکرائبرزسبسکرائب کریں