• بلاگ
  • صفحہ اول

مشکل وقت میں غریبوں کی امداد کے پیچھے چُھپے مقاصد

صفحہ اول بلاگ مشکل وقت میں غریبوں کی امداد کے پیچھے چُھپے مقاصد

مشکل وقت میں غریبوں کی امداد کے پیچھے چُھپے مقاصد

- Advertisement -

                                                                                                                                          تحریر         : ملک علی رضا

بہت عرصہ ہوگیاتھا  آپ لوگوں سے تحریری انداز میں گفتگو کیے ہوئے ، تو سوچا کیوں نہ آج  آپ سے چھوٹی سے بات
کہی جائے۔ تو جناب بات کچھ اس طرح ہے کہ اس وقت کرونا پوری دنیا میں اپنا کام دیکھا رہا ہے اور تمام سُپر پاورز گُھٹنے ٹیک چکی ہیں اس عالمی وبا کے سامنے  ، پاکستان میں اور کچھ اور ترقی پذیر ممالک میں کرونا اس طرح نہیں پھیلا جس طرح اس وقت یورپ کے ترقی یافتہ ممالک میں اس نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔ اس وقت تمام ممالک کو مسائل درپیش ہیں  چاہے وہ کسی بھی شعبے کے ہوں اس وقت ہرچیز خسارےمیں جا رہی ہے۔

 دنیا بھر میں لاک ڈاون کی وجہ سے کاروباری زندگی تقریبا مفلوج ہو چکی ہے اور اس کا سب سے زیادہ نقصان ان لوگوں کو ہو رہا ہے جو یومیہ اُجر ت پر کام کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان نے کچھ اقدامات کیے جن سے تحت غریب لوگوں کو بارہ ہزار روپے دیے جا رہے ہیں جو کہ ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں کو دیے جا رہے ہیں ۔

- Advertisement -

 وزیر اعظم عمران خان نے لوگوں سے اپیل کی مخیر حضرات بھی غریب اور دیہاڑی دار طبقے کی مدد کریں  تو  اس صورتحال میں تمام سیاسی اورسماجی فلاحی تنظیمیں حرکت میں آگئیں گو کہ وہ پہلے بھی یہ کام شروع کرنے کا ارادہ رکھتیں تھیں ، تو جناب  یہ کام شروع ہوگیا ۔ کچھ بڑی سیاسی ،مذہبی سماجی فلاحی جماعتیں غریبوں کی مدد کرنے کے لیے باہر نکلنا شروع ہوگئیں ۔دوسری جانب حکومت نے اعلان کیا کہ ایک کرونا ریلیف فنڈ اکھٹا کیا جا رہا ہے جسں سے  حاصل ہونی والی رقم کو  غریبوں کے لیے امداد دی جائے گی ،جبکہ حکومت کی طرف سے کسی بھی قسم کی نام یا تصویر کی تشہیر کی اجازت نہیں ہوگی ۔ بغیر نام کی تختی کے پہلی بار کچھ منصوبے شروع ہوئے جن کا براہ راست فائدہ غریب عوام کو ہونا تھا۔اور یہ کام شروع بھی ہوگیا ۔

تو جناب ہر طرف سے این جی اوز نکل آئیں  اور ناجانے کون کون سے جماعتیں جن کے نام سوشل میڈیا پر تصاویر ، ویڈیوز اور تحریروں کے صورت میں سامنے آنے لگ گئے میں بھی ان سب کا مشاہدہ کرتا رہا بہت سے لوگ بڑے بڑے گودام بنا کر لوگوں میں راشن تقسیم کرنے میں لگ گئے کہ ہاں جی جس جس کو راشن چائیے وہ شناختی کارڈ کاپی سمیت لسٹ لے آئے اور بورے لے جائے ۔

 کچھ جناب صابن کی ٹکیاں ، ہینڈ سینیٹائزرز  اور ماسکس بھی دیے  جاتے رہے  اور مزے کی بات یہ ہے ایک صابن کی ٹکی دینے پر بھی لوگ ایم این اے یا ایم پی اے کی پوسٹیں بنا کر سوشل میڈیا اخبارات میں شئیر کرتے رہے کچھ چینلز پر بریکنگ بھی چلتی رہی کہ فلا ں صاحب نے فلاں قصبے میں پانچ سو لوگوں میں ہاتھ دھونے کے لیتے صابن کی ٹیکیاں دیں۔کچھ تو سیاسی راہنماوں نے اپنے حلقے کے محلوں میں بھی راشن بانٹے کہ جی یہ پارٹی چئیرمین کی جانب سے غریبوں کے لیے کچھ امداد ہے ،اور اس میں چند سو روپے موجود ہوتے ہیں جن سے ایک ہفتے کا کھانا بمشکل آ سکتا ہے ۔

 ہمیشہ سے سنا تھا کہ کچھ نامی گرامی فلاحی جماعتیں لوگوں کی مدد کرتی ہیں  اور بے لوث ہوکر تو ان کو بھی مشاہدہ کیاگیا، یہ فلاحی جماعتیں لوگوں کے گھروں میں جا کر کلورین کے سپرے بھی کرتی دیکھائی دیں اور راشن بھی بوریاں یا پلاسٹ کے لفافوں میں گھروں میں دیتے نظر آئے اور انہوں نے اپنے لباس کے اوپر مخصوص قسم کی پرنٹنگ والی شرٹ پہنی ہوئی ہوتی ہے اور ٹوپی بھی جو وہ اپنی جماعت کی کسی بھی کمپین میں پہنتے ہیں ۔اور انکے امدادی سامان کی بوری یا شاپر پر بھی انکی جماعت کی پرنٹنگ  ہوتی تھی  کہ جہاں جائے پتہ چلے کہ یہ فلاں جماعت کی طرف سے راشن آیا۔

 اسی طرح کچھ ایسی جماعتیں بھی سامنے آئیں جو کہ مذہب کےنام پر یہاں تک کہ فرقے کے نام پر بھی راشن بانٹا جا رہا کہ جناب یہ فرقہ غریبوں کی بہت مدد کرتا ہے ۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے اب تک جو بھی اقدامات کیے گئے ہیں ان میں کسی قسم کی پارٹی تشہیر نہیں دیکھی گئی۔  

کچھ ایسے لوگ ہیں  جو سادہ سے بیگ میں مہینے بھر کا راشن ڈال کر اپنے دوست احباب کے ذریعے غریبوں تک پہنچا رہے ہیں اور ان کا نام تک  نہیں جانتا وہ انسان جس کو راشن دیا جا رہا ہوتا ہے ، نہ کوئی تصویر ، نہ ویڈیو اور نہ ہی کسی قسم کا بینر یہاں تک کے ان احباب کے گھر کے سامنے لمبی لائن بھی نہین ، کوئی انکو جانتا ہوگا تبھی لائن لگی ہوگی  نا،،؟

یہ سب لکھنے کی  وجہ اب میں آپکو بتاتا ہوں جو میں نے جانی تو جناب اس وقت غریبوں کی  مدد کی آڑ میں تمام سیاسی ، مذہبی سیاسی اور فلاحی جماعتیں اگلے آنے والے الیکشن کے لیے اپنی کمپین چلا رہی ہیں ،کرونا وائرس کی وجہ سے انکو موقع مل گیا کہ اپنی سیاسی ساکھ کو پکا کیا  جائے تا کہ آنے والے الیکشن میں وہ کہہ سکیں کہ دیکھیں مشکل وقت میں حکومت نے آپ کا ساتھ نہیں دیا ہم نے آپ کا ساتھ دیا تھا ، اور لوگوں کو بہلا پھسلا کر وہ اپنے مقاصد حل کرتے جائیں۔

مگر اس وقت حکومتی اقدامات کو پوری دنیا میں سراہا جا رہا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ اس وقت کی حکومت اپنی عوام کی ہر طرح سے مدد کرنے میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رہی ، یہی وجہ ہے کہ سیاسی مخالفیں کو سوشل میڈیا پوسٹرز پر بھی اعتراض کرنے لگ گئے کہ یہ پارٹی جھنڈے کے رنگ پر بنایا گیا۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت  تمام دنیا میں لوگ بے لوث ہو کر اپنی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں مگر ہمارے پاکستان میں لوگ صرف اپنی سیاست چمکانے کے لیے غریبوں کا مذاق اُڑانے کے لیے اور ان پر اپنا احسان جتانے کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں تا کہ ان کو اگلے الیکشن میں کامیابی مل سکے۔ اور وہ لوگ جو بے لوث ہوکر کام رہے ہیں وہ صرف اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے یہ کام کر رہے ہیں۔


آخر میں ان لوگوں سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ خدا کے لیے غریب کا مذاق مت بنائیں اگر مدد کرنی ہے تو اللہ کی رضا کے لیے کریں ، اپنی سیاست کے لیے غریب کا مذاق مت اُڑائیں۔


- Advertisement -

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں
اپنا نام یہاں درج کریں

1,000فینزپسند
6فالورزفالور
1,000فالورزفالور
1,000سبسکرائبرزسبسکرائب کریں